باؤری کسے کہتے ہیں
پرانے وقتوں میں پانی علاقہ کے لئے لمبے عرصے تک رکھنے کے
لئے گہرے کنویں کھود کر اس کو سیڑھیوں کی مدد سے سٹیپ بنائےجاتے تھے جن کو باؤری
کہتے ہیں ۔
پرانے وقتوں میں بادشاہ اپنے قلعوں یا محلات کے نزدیک پانی
کی مسلسل فراہمی /لمبے عرصے تک محفوظ کرنے کے لئے سیڑھیوں والے کنویں بنواتے تھے ۔ان کنوؤں کو باولی /باوری کا نا م دیاگیاہے ۔پاکستان اور بھارت کے کئی
شہروں میں مغلیہ دور حکومت اور ان سے پہلے کی تعمیر کی گئی باؤلیاں اب بھی کسی نہ
کسی شکل میں موجود ہے ۔
چاند باؤلی بھی ان
ہی شاہکارمیں سے ایک ہے جو نویں صدی عیسوی میں نکمبھ خاندان کے شہزادے /بادشاہ
راجہ چندا یا چندر نامی نے
تعمیرکرایا۔چاند باولی شاید پوری دنیامیں
موجود سب سے زیادہ پرانی باولی ہے ۔ یہ بھارت کے صوبہ راجھستان ابھانیری گاؤں میں
موجو د ہے ۔جو جے پور سے لگ بھگ 90 کلومیٹر کی دوری پر ہے ۔راجھستان کی ریاست انتہائی
خشک ہونے کی وجہ سے چاند باؤلی کو اس طر ح بنایاگیا تھا ۔ تاکہ اس میں زیادہ سے
زیادہ پانی محفوظ کیاجاسکے ۔ کنویں کے
نچلے حصے میں ٹمپریچر 5 سے6 سینٹی گریڈ رہتاہے ۔ کنویں کی اطراف میں مہمانوں کے
لئے آرام گاہ اور شاہی خاندان کے لئے آرام گاہ بھی تعمیر تھی ۔
ایک
اور بات اس کنویں کی مخالف سمت میں ہرشد
ماتا مندر /ہرش دیوی مندر موجود ہے ۔تاریخ
دان کہتے ہیں کہ اس مندر کو محمود غزنوی دور میں فتح کیاگیا تھا جو اب بھی خستہ
حالی شکل میں موجود ہے ۔آس پاس کوئی ہوٹل
نہ ہے اگر آپ سیر کرنے آئیں تو کھانے پینے کا مناسب انتظام کرتے آئیے گا۔
بھارت
میں اپنی طرز کا بڑا اور گہرا کنواں چاند باؤلی ہے جس کی 3500 سیڑھیاں ، 13 منزلیں
ہیں ۔گہرائی 100 فٹ ہے ۔ چاند باؤلی کی اوپری منزلیں 18 ویں صدی میں مغل دور حکومت میں تعمیر کی گئیں ۔ اِسی دور میں کنویں کے گر د آرٹ
گیلریاں تعمیرہوئیں ۔چاند باولی کی طرح
ایسی کئی چھوٹی ،بڑی باؤلیاں برصغیر پاک و ہند میں موجود ہیں ۔



.jpg)

Thanks for inconvenience,
Fell free ask to us.