السلام علیکم! عزیز
دوستو امیدکرتاہوں کہ آپ سب لوگ خیریت سے ہوں گے ۔آج ہم اہم اسلامی مہینہ یعنی ماہ
رمضان المبارک کی بات کریں گے جس میں تمام شیاطین کو بندکردیاجاتاہے اور نیکیوں کی
بھرمار یعنی ایک نیکی کا ثواب 70 نیکیوں کے برابر ہوجاتاہے ۔ اب اس مہینے کے آنے
کے چند دن رہے گئے ہیں بھرپور طریقہ سے
تیاریاں کیجئیے اپنے ہمسایوں کا بھی خیال کیجئے۔
اردوترجمہ:
رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے ہدایت اور رہنمائی ہے اور فیصلے کی روشن باتوں (پر مشتمل ہے۔) تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے تو ضرور اس کے روزے رکھے اور جو بیمارہو یا سفر میں ہو تو اتنے روزے اور دنوں میں رکھے۔اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا اور ( یہ آسانیاں اس لئے ہیں ) تاکہ تم (روزوں کی) تعداد پوری کرلو اور تاکہ تم اس بات پر اللہ کی بڑائی بیان کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اورتاکہ تم شکر گزار بن جاؤ۔(البقرہ185)
اسی مہینہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے کہ ہم نے قرآن
اُتارا ہے جو لوگو ں کے لئے تاقیامت ہدایت کا راستہ ہے۔ہر چیز کا صدقہ ہے جبکہ جسم
کا صدقہ روزہ ہی ہے ۔روزہ سے مراد اپنے آپ کو
پیاس،بھوک سے نڈھال رکھنا جو فجر سے پہلے شروع ہوکر مغرب تک کا وقت ہے۔جس
وقت میں انسان تمام تر چیزیں دستیاب ہونے
کے باوجود نوش،کھانا ناکھانااور پینا ہی روزہ ہے۔کیونکہ اللہ تعالی نے
فرمایاہے کہ روزہ صرف میرے لئے ہی ہے
اورمیں ہی اپنے بندہ کو اس کا اجردوں گا۔سبحان اللہ ۔
ایک اور جگہ پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ كُتِبَ عَلَيْكُمُ ٱلصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس
طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔
ایک اور جگہ پر ارشاد پاک ہے:
اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍؕ-فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِیْضًا اَوْ عَلٰى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَؕ-وَ عَلَى الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍؕ-فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗؕ-وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۱۸۴
ترجمہ:
گنتی کے چنددن ہیں تو تم میں جوئی کوئی بیمار ہویاسفر میں
ہوتو اتنے روز اور دنوں میں رکھے اورجنہیں اس کی طاقت نہ ہو ان پر ایک مسکین کا
کھانا فدیہ ہے۔پھر جو اپنی طرف سے نیکی زیادہ کرے تو اس کے لئے بہتر ہے اور اگر تم
جانوتوروزہ رکھناتمہارے لئے زیادہ بہترہے۔
دیکھاپیارے
بھائیو! روزہ رکھنے کی حیثیت ۔یہ کہ سال بھر میں گنتی کے چنددن ہیں روزہ رکھنے کے
اور ان دنوں میں ثواب کی اجرت اتنی زیادہ ہے کہ اگر تم جان لو تو نیکیاں اورروزے
رکھتے رہوگے۔ہاں اگر کوئی بیمار ہے تو کفارہ کے طور پر دیگر مہینوں میں روزہ رکھ
سکتاہے اگر روزہ کی طاقت نہ ہے تو مسکین کو کھانا کھلاکر کفارہ پوراکرسکتاہے۔
ماہ رمضان میں عورتوں سے جماع کرنے کے متعلق واضح حکم دیاگیاہے کہ اللہ کی مقررکردہ حدود
ہیں جو ان سے تجاوزکرےگا جہنم میں جائیگا۔
ارشادہوتاہے:
اُحِلَّ لَكُمْ لَیْلَةَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلٰى نِسَآىٕكُمْؕ-هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّؕ-عَلِمَ اللّٰهُ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَیْكُمْ وَ عَفَا عَنْكُمْۚ-فَالْــٴٰـنَ بَاشِرُوْهُنَّ وَ ابْتَغُوْا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ۪-وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪-ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِۚ-وَ لَا تُبَاشِرُوْهُنَّ وَ اَنْتُمْ عٰكِفُوْنَۙ-فِی الْمَسٰجِدِؕ-تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَقْرَبُوْهَاؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ(۱۸۷)
ترجمہ:
تمہارے لئے روزوں کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا
حلال کردیاگیا۔وہ تمہارے لئے لباس ہیں اورتم ان کے لئے لباس ہو۔اللہ کومعلوم ہے کہ
تم اپنی جانوں کو خیانت میں ڈالتے تھے تواس نے تمہاری توبہ قبول کرلی اور تمہیں معاف فرمادیاتو اب ان سے ہم بستری
کرلو اورجو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھاہواہے اسے طلب کرو اور کھاؤ اور پیو یہاں
تک کہ تمہارے لئے فجر سے سفیدی کاڈورا سیاہی کے ڈورے سے ممتاز ہوجائے ۔پھررات آنے
تک روزوں کو پوراکرو اور عورتوں سے ہم بستری نہ کرو ۔جبکہ تمام ،تم مسجدوں میں
اعتکاف سے اورروزے سے ہو ۔یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ،شرطیں ہیں ۔اوراللہ لوگوں کے
لئے آیات کھول کھول کر واضح بیان فرماتاہے تاکہ وہ پرہیز گارہوجائیں۔
دیکھاپیارے بھائیو! شروع اسلام میں یہ بات عام ہوگئی تھی کہ
روزے ،رمضان کے مہینے میں اپنی بیویوں سے ہم بستری کرنا بالکل غلط اورگناہ ہے ۔جب
یہ بات آنحضرت تک پہنچی تو اسی اثناء میں وحی نازل ہوئی کہ مرد اپنی عورتوں سے
رمضان کے مہینہ میں رات کو جماع/ہم بستری کرسکتے ہیں ۔اور اے مومنو !خوب جان لو کہ
اللہ کی مقررکردہ حدود ،قیود سے آگے نہ بڑھو ورنہ گمرہ ہوجاؤگے ۔
مومنو! رمضان المبارک کے تین عشرے ہیں۔ ایک عشرہ رحمت کا
،دوسرا مغفرت کا اور تیسرا جہنم سے نجات کا ۔تیسرے عشرے میں طاق راتوں کی بہت
زیادہ فضیلت ہے کیونکہ ان میں سے ایک رات لیلتہ القدر کی ہے ۔لیلتہ القدر ایک ایسی
رات ہے جو ہزارراتوں سے بہترہے ۔لیلتہ القدر ایسی رات جس میں اللہ تعالی! کا فرمان
ہے کہ اس رات فرشتے آسمان سے زمین پر نازل ہوتے ہیں ۔رحمتوں کا یہ سلسلہ صبح تک
جاری رہتاہے۔
سورہ القدر:
إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ
دنیامیں ہر چیز کا سردار جیسے دنوں کا سردارجمعتہ
المبارک۔رمضان تمام مہینوں کا سردار ہے۔رمضان المبارک میں نیکیاں سستی ہوجاتی ہیں
اور شیاطین باندھ دیئے جاتے ہیں ۔ویسے نماز تو ہر انسان مسلمان پر دن میں پانچ
مرتبہ فرض ہے مگر صد افسوس
افراتفری/مصروفیت کے اس دورمیں کتنے فیصد مسلمان اس فریضہ سے مستفید ہوتے ہوں گے
۔وللہ اعلم۔ ہمیں چاہئے کہ رمضان میں مناسب عبادات ،صدقات کا انتظام کریں ۔رحمتوں
کو لپیٹیں ۔اللہ تعالیٰ آپ کااور ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین۔ اللہ حافظ !

Thanks for inconvenience,
Fell free ask to us.